شعور و فکر میں جب روشنی نظر آئی نگاہ عشق میں دنیا مجھے نظر آئی یہ میرے عشق کے جذبات کا نتیجہ ہے کہا تھا اس نے نہ آﺅ گی میں مگر آئی کسی بھی شکوہ
شعور و فکر میں جب روشنی نظر آئی نگاہ عشق میں دنیا مجھے نظر آئی یہ میرے عشق کے جذبات کا نتیجہ ہے کہا تھا اس نے نہ آﺅ گی میں مگر آئی کسی بھی شکوہ
ہمارے دل ،ہمارے لب فدا ہوں ،شاہ ِ دوراں پر بڑے احساں ہیں ،اس انسانِ کامل کے ہر انساں پر شہہ والا کا دیوانہ ہوں ،یہ اعزاز کیا کم ہے محبت ناز کرتی ہے مرے چاکِ
ایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہوا ان سے بچھڑئے ہوئے اک زمانہ ہوا ہم نے تو راز میں یہ محبت رکھی جانے کیسے شہر میں فسانہ ہوا لفظ گھستے گئے خوشبو بڑھتی گئے خط جتنا
یاد کرتے رہے یاد آتے رہے ہم تمھیں بے سبب گنگناتے رہے نیند آئی نہیں پھر ہمیں رات بھر دیر تک خود کو ہم تھپ تھپاتے رہے ہر جگہ منتیں مانگتے ہی رہے ہم تیرے نام
خالی کمرے میں اندھیرا سا بنا رکھا ہے دل نے کیا تماشہ سا بنا رکھا ہے اتنے شور میں بھی تنہائی ہے گونگا بہرہ سا بنا رکھا ہے جو کسی ضد پہ اڑا ہے تو اڑا
فلسفے محبت کے ہر دور میں کھلے دیکھے جس راہ سے بھی گزرے تیرے چرچے دیکھے با خدا تیری محبت میں صر ف جدائی کاٹی پوچھ مجھ سے کس حال میں صد مے دیکھے ساری بدنامیاں
دولت کے انبار کے پیچھے عصمت کی غبار کے پیچھے کئی نقاب پوش ہیں چہرے شہرت کے بازار کے پیچھے کئی عفونت زدہ مشاہیر سرائیت خوشبودار کے پیچھے ظاہر تو سرشک ہیں بہتے ہنستے ہیں رخسار
غم محبت دل کو بنجارہ کر دے گا اور تیرا پیار مجھ کو آوارہ کردے گا آج سسکتا ہے تو میری محبت کے لئے کل تو ہی محبت سے کنارہ کر دے گا یہ ضروری نہیں
دیار غم میں محبتوں سے آشنا کر دے میں روشنی کر دوں تو مجھے دیا کر دے ہرا کر دے آ کر میری خزائوں کو بہار چھو کر اسے اور دل ربا کر دے میر ی
زخموں سے کا نٹے تو نکالے بھی بہت تھے ہم تم نے جو کئے وہ ازالے بھی بہت تھے ایسا نہیںکہ تم سے بچھڑ کر بدل گئے ہم نے تو تیرے درد سنبھالے بھی بہت تھے
خوشبو سے معطر ہیں صبح و شام کے منظر پھیلی ہوئی زلفوں کا دریچہ سا کھلا ہے چلتا ہے کوئی فرش پہ پھولوں کا خزینہ مخمل سے بدن پر کوئی ریشم کی ردا ہے یاقوت کے
زلف ہوتے تیرے چہرے پہ بکھر جاتے لفظ ہوتے تیرے لہجے میں اُتر جاتے تم نہ ہوتے تو اس شہر پرُفتن میں تیری محفل سے اُٹھتے تو پھر کد ھر جاتے تیرے شہر میں ہیں تو
پوچھتے ہو یہ وبا کیا ھے آو بتاوں یہ ہوا کیا ھے ۔۔ دنیا کو جہنم بنانے لگے تھے دن رات ستم ڈھانے لگے تھے کہیں آگ بازاروں میں لگائی تھی کہیں مسجد تم نے ڈھائی
سایہ فگن ہوا پھر رمضان کا مہینہ کہتے اسے کبھی ہیں قرآن کا مہینہ آیا ہے زندگی کی لے کر نئی بہاریں فرمان رب کے سائے میں اسے گزاریں فرمان رب کو پھر سے سینے میں
موت کا شکاری جیسے گھات میں ہے لگ چکا لے گیا اڑا کے جو بھی ہاتھ اسکے لگ چکا خواب ہیں سمٹ گئے ٹکڑیوں میں بٹ گئے ہر امید چھپ گئی ہر ترقی رک گئی بے
رمضان آ گیا رمضان آگیا رمضان آ گیا رمضان آگیا مہمان آگیا مہمان آگیا رمضان آگیا رمضان آگیا دیکھا جو چاند چل دیئےتراویح کے لیئے سحری کے انتظام اور تسبیح کے لیئے سارے مہینوں کا سلطان
ماہ صیام آیا رب کا پیام لایا روزہ رکھا سبھوں نے بچوں نے بزرگوں نے ہے ماہ برکتوں کا ایماں کی رفعتوں کا رحمت کا مغفرت کا معافی کی معصیت کا قرآن جس میں اترا انعام
قریہ قریہ گاؤں قصبہ شہر کا ہر شہر آج بن گیا سارا وطن ہے اب سراپا احتجاج مرد و عورت ہوں کہ ہمارے دیش کے پیر و جوان ہے یہی ایک آرزو قائم کریں امن و
ابھی مایوس مت ہونا نہ تم یوں حوصلہ ہارو ابھی تو سحر ہونی ہے اندھیروں کو بھی چھٹنا ہے ابھی تو جنگ جاری ہے ابھی یہ سوچنا کیسا اگر ہم ہار جائیں تو ہمارا کیا بنے
ہمیں یقیں ہے مصائب یہ ٹل ہی جائیں گے جو گررہے ہیں تو اِک دن سنبھل ہی جائیں گے یہ وقت سب پہ کڑا ہے مگربہ فیضِ حرفِ دعا سکوتِ مرگ کے سائے بھی ڈھل ہی
موت کا شکاری جیسے گھات میں ہے لگ چکا لے گیا اڑا کے جو بھی ہاتھ اسکے لگ چکا خواب ہیں سمٹ گئے ٹکڑیوں میں بٹ گئے ہر امید چھپ گئی ہر ترقی رک گئی بے
خدا نے سن لی میری عرش کو ہلا ہی دیا ہوں کس عذاب میں دنیا کو بتا ہی دیا میری ردائیں چھنی سامنے تمہارے ہی ردائیں چھیننے والوں کا منہ چھپا ہی دیا ہمیں جو روکتے
اے ملک فرانس ہم تیرے مشکور رہینگے تجھ سے نہ جدائی کبھی منظور کرینگے زرخیر زمیں تیری یہ میدان یہ کہسار لوگوں نے تیرے ہمکو دیا ہے بہت ہی پیار اے فرانس تو ہے آج میری
سانحہ وادی نیلم تو سنو غمزدہ اک کہانی تو سنو کبھی کلسٹر بم کبھی گولے کہیں آگ تو کہیں شعلے کبھی ندی میں طغیانی ہے کبھی گرتا تودہ برفانی ہے نجانے یہ کیسی آفات ہیں جو
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr