میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سرِ آئینہ مرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سرِ آئینہ مرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں
تم نے سچ بولنے کی جرات کی یہ بھی توہین ہے عدالت کی منزلیں راستوں کی دھول دھوئیں پوچھتے کیا ہو تم مسافت کی اپنا زادِ سفر بھی چھوڑ گئے جانے والوں نے کتنی عجلت کی
یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک میل فنا سو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں اور اس
یہ اور بات کہ خود کو بہت تباہ کیا مگر یہ دیکھ ترے ساتھ تو نباہ کیا عجب طبیعت درویش تھی کہ تاج اور تخت اسی کو سونپ دیا اور بادشاہ کیا بساطِ عالم امکاں سمیٹ
کیا بتائیں فصلِ بے خوابی یہاں بوتا کون جب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر سوتا کون تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے پھر پسِ دیوار زنداں رات بھر روتا ہے
وہ جو ہمرہی کا غرور تھا، وہ سوادِ راہ میں جل بجھا تو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھا یہ جو شاخ لب پہ ہجوم رنگ صدا کھلا ہے
کہیں تم قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے تمہارے ساتھ
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr