تم نے سچ بولنے کی جرات کی یہ بھی توہین ہے عدالت کی منزلیں راستوں کی دھول دھوئیں پوچھتے کیا ہو تم مسافت کی اپنا زادِ سفر بھی چھوڑ گئے جانے والوں نے کتنی عجلت کی