مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم جب
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم جب
پہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیے پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے پہلے مزاج راہ گزر جان جائیے پھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے
پریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائو سکوتِ مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جائو ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جائو خیالوں میں ہمیں یہ رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جائو
یوں چُپ رہنا ٹھیک نہیں کوئی میٹھی بات کرو مور چکور پیپہا کوئل سب کو مات کرو ساون تو من بگیا سے بن برسے بیت گیا رس میں ڈوبے نغمے کی اب تم برسات کرو ہجر
کیا ہے جسے پیار ہم نے زندگی کی طرح وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح بڑھا کے پیاس میری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی
جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے وہ میری تنگی داماں کا گلہ کرتا ہے دیر سے آج میرا سر ہے تیرے زانوں پر یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے
اک اک پتھر جوڑ کے میں نے جو دیوار بنائی تھی جھانکوں اس کے پیچھے تو رسوائی ہی رسوائی تھی یوں لگتا ہے سوتے جاگتے اوروں کا محتاج ہوں آنکھیں میری اپنی ہیں پر ان میں
ہجر کی پہلی شام کے سائے دور اُفق تک چھائے تھے ہم جب اس کے سحر سے نکلے سب راستے ساتھ لائے تھے جانے وہ کیا سوچ رہا تھا اپنے دل میں ساری رات پیار کی
گرمی حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتحِ صیاد سے ہم شعلئہ آتش گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوئہ
دل کو غمِ حیات گوارہ ہے ان دنوں پہلے جو درد تھا وہی چارہ ہے ان دنوں یہ دل ذرا سا دل تیری یادوں میں کھو گیا ذرے کو آندھیوں کا سہارا ہے ان دنوں تم
درد سے میرا دامن بھر دے یا اللّہ پھر چاہے دیوانہ کر دے یا اللّہ میں نے تجھ سے چاند ستارے کب مانگے روشن دل بیدار نظر دے یا اللّہ سورج سی اک چیز تو ہم
چراغ دل کے جلائو کہ عید کا دن ہے ترانے جھوم کے گائو کہ عید کا دن ہے غموں کو دل سے بھلائو کہ عید کا دن ہے خوشی سے بزم سجائو کہ عید کا دن
بے چین بہاروں میں کیا کیا ہے جان کی خوشبو آتی ہے جو پھول مہکتا ہے اس سے طوفان کی خوشبو آتی ہے کل رات دکھا کے خواب قریب سو سیج کو سونا چھوڑ گیا ہر
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گر کر بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لے مجھ کو میں ہوں تیرا نصیب اپنا بنا لے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تیری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات میری تنہائی کی کون سیاہی گھول رہا تھا وقت کے بہتے دریا میں میں نے آنکھ جھکی دیکھی ہے آج کسی
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr