وہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئے وہ کون لوگ تھے جو اپنے گھر بھی بھول گئے یہ کیسی قوتِ پرواز ڈر نے پیدا کی پرندے اڑتے ہوئے اپنے پر بھی بھول گئے
وہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئے وہ کون لوگ تھے جو اپنے گھر بھی بھول گئے یہ کیسی قوتِ پرواز ڈر نے پیدا کی پرندے اڑتے ہوئے اپنے پر بھی بھول گئے
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے رتیں وصال
وہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہے کہ میرا دل تو مری مٹھیوں میں رہتا ہے میں اپنے ہاتھ سے دل کا گلا دبا دوں گی مرے خلاف یہی سازشوں میں رہتا ہے اڑان جس
وصال رُت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں
اک برس کے عرصے میں چار چھ ملاقاتیں شام کی حویلی میں صبح کے مہکنے کی بے یقین سی باتیں کچھ عذاب ماضی کے گفتگو کا موضوع تھے کچھ سوال خوابوں کے کچھ جواب آنکھوں کے
تم نے یہ کہہ دیا کہ محبت نہیں ملی مجھ کو تو یہ بھی کہنے کی مہلت نہیں ملی نیندوں کے دیس جاتے کوئی خواب دیکھتے لیکن دیا جلانے سے فرصت نہیں ملی تجھ کو تو
ہوا کو خوشبو کو ساتھ رکھنا جو آ گیا ہے اب اس کی مرضی کہیں بھی ٹھہرے کسی بھی در سے بغیر دستک ، بغیر آہٹ خاموشیوں کا لباس پہنے فصیل بینائی کی حدود سے اداس
ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھائوں میں رہنا تھا کس دل میں اترنا تھا چمکنا تھا کن آنکھوں میں کہاں پر پھول بننا تھا تو کب خوشو کیصورت کوئےجاناں سے گزرنا تھا سمجھ میں کچھ نہیں
تتلیاں، جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون ہم سجا بھی لیں اگر دیوار و در دیکھے گا کون اب تو ہم ہیں جاگنے والے تری خاطر یہاں ہم نہ ہوں گے تو ترے شام
تری خوشبو نہیں ملتی، ترا لہجہ نہیں ملتا ہمیں تو شہر میں کوئی ترے جیسا نہیں ملتا یہ کیسی دھند میں ہم تم سفر آغاز کر بیٹھے تمہیں آنکھیں نہیں ملتیں ہمیں چہرہ نہیں ملتا ہر
صبح نہیں ہو گی کبھی، دل میں بٹھا لے تو بھی خود کو برباد نہ کر جاگنے والے تو بھی میں کہاں تک تری یادوں کے تعاقب میں رہوں میں جو گم ہوں تو کبھی میرا
سب اپنی ذات کے اظہار کا تماشا ہے وگرنہ کون یہاں پانیوں پہ چلتا ہے تمام عمر کی نغمہ گری کے بعد کھلا یہ شہر اپنی سماعت میں سنگ جیسا ہے اسے بھی ڈھنگ نہ آئے
رکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے یہ دل کہ ترے بعد سنبھلتا بھی نہیں ہے یہ شہر کسی آئینہ کردار بدن پر الزام لگاتے ہوئے ڈرتا بھی نہیں ہے اک عمر سے ہم
پرانی کتاب میں رکھی تصویر سے باتیں آج برسوں کے بعد دیکھا ہے اب بھی آنکھوں کا رنگ گہرا ہے اور ماتھے کی سانولی سی لکیر دل میں کتنے دیے جلاتی ہے تیری قامت کے سائے
روشنی دل کے دریچوں میں بھی لہرانے دے اس کو احساس کے آنگن میں اتر جانے دے حبس بڑھ جائے تو بینائی چلی جاتی ہے کھڑکیاں کھول کے رکھ، تازہ ہوا آنے دے تیرے روکے سے
پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا ہم یاد رکھتے ہیں تری باتوں سے اس دل کو بہت آباد رکھتے ہیں کبھی دل کے صحیفے پر تجھے تصویر کرتے
نجانےکن غم کے جگنوئوں کو چھپائے پھرتی ہے مٹھیوںمیں کئی دنوں سے اداس رہتی ہے ایک لڑکی سہیلیوں میں کبھی تویوں ہومحبتوں کی مٹھاس لہجوں میں گھول دیکھیں گزرتی جاتی ہے عمر ساری اداس باتوں کی
نہ کوئی خواب نہ سہیلی تھی اس محبت میں، میں اکیلی تھی عشق میں تم کہاں کے سچے تھے جو اذیت تھی ہم نے جھیلی تھی یاد اب کچھ نہیں رہا لیکن ایک دریا تھا یا
نام لے لے کر نہ میرا شہر کی نظروں میں آ مجھ سے ملناہے تو میرے دل کےصحرائوں میں آ اس سفر میں دیکھ گھل جاتا ہے مٹی کا بدن مجھ سے ملنےکی نہ خواہش کر
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا جلائے رکھونگی صبح تک میںتمہارے رستوںمیں اپنی آنکھیں مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی
مرے خلاف ہوا ہے تو اس کا ڈر بھی نہیں یہ جانتے ہیں کہ وہ اتنا معتبر بھی نہیں تجھے بھی دیکھ لیا شامِ وعدئہ آخر اب اعتبار ہمیں تیرے نام پر بھی نہیں یہاں تو
مہتاب رتیں آئیں تو کیا کیا نہیں کرتیں اس عمر میں تو لڑکیاں سویا نہیں کرتیں کچھ لڑکیاں انجامِ نظر ہوتے ہوئے بھی جب گھر سے نکلتی ہیں تو سوچا نہیں کرتیں یاں پیاس کا اظہا
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr