وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر مرے لئے کوئی شایان التماس نہیں ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ

ٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیر بھر پور رہی بہار کچھ دیر اک دھوم رہی گلی گلی میں آباد رہے دیار کچھ دیر پھر جھوم کے بستیوں پہ برسا ابر سرِ کوہسار کچھ دیر پھر لالہ

سفر منزلِ شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں اولیں قرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی تھی مجھے کس کی طلب یاد

نئے کپڑے بدل کر جائوں کہاں اور بال بنائوں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جائوں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ ملا کر اداس لوگوں سے حسن

کون اس راہ سے گزرتا ہے دل یونہی انتظار کرتا ہے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے شہر گل میں کٹی ہے ساری رات دیکھیے دن کہاں گزرتا ہے دھیان

جرم انکار کی سزا ہی دے میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے شوق میں ہم نہیں زیادہ طلب جو ترا ناز کم نگاہی دے تو نے تاروں سے شب کی مانگ بھری مجھ کو

عشق میں جیت ہوئی یا مات آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات یوں آیا وہ جان بہار جیسے جگ میں پھیلے بات رنگ کھلے صحرا کی دھوپ زلف گھنے جنگل کی رات کچھ نہ سنا

عشق جب زمزمہ پیدا ہو گا حسن خود محو تماشا ہو گا سن کے آوازہ زنجیر صبا قفس غنچہ کا دروا ہو گا جرس شوق اگر ساتھ رہی ہر نفس شہپر عنقا ہو گا دائم آباد

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دکھاکر بس ایک میٹھی سی دھن سناکر ستارئہ شام

غم ہے یا خوشی ہے تو میری زندگی ہے تو آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو میری رات کا چراغ میری نیند بھی ہے تو میں خزاں کی شام ہوں رت بہار ہے

دکھ کے لہر نے چھیڑا ہو گا یاد نے کنکر پھینکا ہو گا آج تو میرا دل کہتا ہے تو اس وقت اکیلا ہو گا میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے اوروں کو خط لکھتا ہو گا

دل میں اک لہر سے اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی شور برپا ہے خانئہ دل میں کوئی دیوار سی گری ہے ابھی بھری دنیا میں جی نہیں لگتا جانے کس چیز کی

تو مجھ سے میں تجھ سے دور تنہا تنہا پھرتے ہیں دل ویراں آنکھیں بے نور دوست بچھڑتے جاتے ہیں شوق لیے جاتا ہے دور ہم اپنا غم بھول گئے آج کسے دیکھا مجبور دل کی

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون

آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں جانے کیا چیز کھو گئی میری وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر اس بھرے شہر