وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے ہنس کے بولے بھی تو دنیا سے جدا لگتا ہے اور کچھ دیر نہ بجھنے دے اسے ربِ سحر! ڈوبتا چاند مرا دستِ دعا لگتا ہے جس سے
وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے ہنس کے بولے بھی تو دنیا سے جدا لگتا ہے اور کچھ دیر نہ بجھنے دے اسے ربِ سحر! ڈوبتا چاند مرا دستِ دعا لگتا ہے جس سے
اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے؟ خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اُڑا کر اس شخص کے
شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں مجھے وعدوں کی خالی سیپیاں اچھی نہیں لگتیں گزشتہ رُت کے رنگوں کا اثر دیکھو کہ اب مجھ کو کھلے آنگن میں اڑتی تتلیاں اچھی نہیں لگتیں وہ کیا
نئی طرح سے نبھانے کی دل نے ٹھانی ہے وگرنہ اس سے محبت بہت پُرانی ہے خدا وہ دن نہ دکھائے کہ میں کسی سے سنوں کہ تو نے بھی غمِ دنیا سے ہار مانی ہے
متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے بجھے چراغ ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں بھی ہوا کہ تیری یاد کہیں راستوں میں چھوڑ آئے ہم
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہو گا تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہو گا اس کی آنکھیں تیرے چہرے پہ بہت بولتی ہیں اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہو
میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو؟ میں تیرے شہر کے سارے دیے بجھا
کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا کبھی فُرصت ملے تو یاد کرنا اذیت کی ہوس بجھنے لگی ہے کوئی تازہ ستم ایجاد کرنا کئی صدیاں پگھلنے کا عمل ہے بدن سے روح کو آزاد کرنا ابھی
خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی محتاط تھے ہم لوگ بھی، چالاک تھی وہ بھی افکار میں ہم لوگ بھی ٹھہرے تھے قد آور! پندار میں ” ہم قامتِ افلاک ” تھی
کاش ہم کھل کے زندگی کرتے! عمر گزری ہے خودکشی کرتے!! بجلیاں اس طرف نہیں آئیں ورنہ ہم گھر میں روشنی کرتے کون دشمن تری طرح کا تھا؟ اور ہم کس سے دوستی کرتے؟ بجھ گئے
کڑے سفر میں اگر راستہ بدلنا تھا تو ابتدا میں مرے ساتھ ہی نہ چلنا تھا کچھ اس لیے بھی تو سورج زمیں پر اترا ہے پہاڑیوں پہ جمی برف کو پگھلنا تھا اتر کے دل
وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی سورج اس کو دیکھ کے پیلا پڑتا تھا وہ سرما کی دھوپ میں دھل کر نکلی تھی اس کو اپنے سائے سے
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری! میرے دشمن میرے لفظوں کے بھکاری نکلے اک جنازہ اٹھا مقتل
شامل مرا دشمن صفِ یاراں میں رہے گا یہ تیر بھی پیوست رگِ جاں میں رہے گا اک رسمِ جنوں اپنے مقدر میں رہے گی اک چاک سدا اپنے گریباں میں رہے گا اک اشک ہےآنکھوںمیںسوچمکے
ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جیسا ہے یہ تلخ تلخ سا لہجہ، یہ تیز تیز سی بات مزاجِ یار کا عالم شراب جیسا ہے مرا سخن بھی
ہر نفس رنج کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔! آدمی دُکھ کا استعارہ ہے ۔۔۔۔۔۔! مجھ کو اپنی حدوں میں رہنے دے میں سمندر ہوں تو کنارا ہے اجنبی! شب کو راستہ نہ بدل تو میری صبح کا ستارا
اتنی مدت بعد ملے ہو! کن سوچوں میں گم پھرتے ہو؟ اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟ ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟ کاش کوئی
گُم صُم ہوا، آواز کا دریا تھا جو اک شخص پتھر بھی نہیں اب وہ، ستارا تھا جو اک شخص شاید وہ کوئی حرفِ دعا ڈھونڈ رہا تھا چہروں کو بڑے غور سے پڑھتا تھا جو
فلک پر اک ستارہ رہ گیا ہے مرا ساتھی اکیلا رہ گیا ہے یہ کہہ کر پھر پلٹ آئیں ہوائیں! شجر پر ایک پتا رہ گیا ہے ہر اک رُت میں ترا غم ہے سلامت یہ
چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں میں بھی کیسی باتیں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جیسے لگتے ہیں اور بانہوں کو شاخیں لکھتا رہتا ہوں تجھ کو خط لکھنے کے تیور بھی بھول گئے آڑی
چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ہیں تمہاری آنکھ کا احوال، خواب پوچھتے ہیں کہاں کہاں ہوئے روشن ہمارے بعد چراغ؟ ستارے دیدئہ تر سے حساب پوچھتے ہیں وہ تشنہ لب بھی عجب ہیں
چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی خوش ہوں کہ وقتِ قتل مرا رنگ سرخ تھا میرے لبوں پہ حرفِ دعا کی لکیر تھی میں
بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختمِ وصل کا لمحہ ہے، رائیگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے
آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں عریاں شجر کے جسم سے شاخیں لپٹ گئیں دیکھا جو چاندنی میں گریبانِ شب کا رنگ کرنیں پھر آسمان کی جانب پلٹ گئیں میں یاد کر رہا تھا
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr