چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں ہمیں کتاب میں ہے ترا رخ روشن ترے جمال میں نور خدا دیکھتے ہیں وہ آئیں پرسش غم کو
چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں ہمیں کتاب میں ہے ترا رخ روشن ترے جمال میں نور خدا دیکھتے ہیں وہ آئیں پرسش غم کو
شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے ایک دوعالم بھی تھا اورا یک یہ عالم بھی ہے اہل دل کو شکوہ بے مہری عالم سہی دیکھنا یہ ہے کہ احساس شکست غم بھی ہے پاہی لیں
ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں نظم گیت وہی بدلتے ہیں وہ ترسے ہیں روشنی کے لیے جن کے خوں سے چراغ جلتے ہیں بے سبب مسکرانا کیا معنی بے سبب اشک بھی نکلتے ہیں گھیر
پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو میں کیسے مان لوں کہ حقیقت بیاں نہ ہو میرے سکوت لب پر بھی الزام آ گئے میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو سوز
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا عمر مصروف کوئی لمحہ فرصت ہو عطا میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے
المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے ڈوبنے والو بچائو ناخدا خطرے میں ہے خون دل دینا ہی ہو گا اے اسیران چمن بوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے مصلحت کوشی ہے
جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے یہ غم دیوار و در تجھے بھی دے سخن گلاب کو کانٹوں میں تولنے والے خدا سلیقہ عرضِ ہنر تجھے بھی دے خراشیں روز چنے اور دل
کیا خبر تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کر دیگا وہ کر کے خواب کا وعدہ مجھے بے خواب کر دیگا کسی دن دیکھنا وہ آ کے میری کشت ویراں پر اچٹتی سی ڈالے گا اور
نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں بڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گا دل آئینہ ہے مگر دل کا آئینہ آنکھیں وہ اک
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr