ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں نظم گیت وہی بدلتے ہیں وہ ترسے ہیں روشنی کے لیے جن کے خوں سے چراغ جلتے ہیں بے سبب مسکرانا کیا معنی بے سبب اشک بھی نکلتے ہیں گھیر

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا عمر مصروف کوئی لمحہ فرصت ہو عطا میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے