شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیطِ بادہ صورت خانہ خمیازہ تھا یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا مانعِ وحشت خرامیہائے لیلے کون ہے؟
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیطِ بادہ صورت خانہ خمیازہ تھا یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا مانعِ وحشت خرامیہائے لیلے کون ہے؟
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا گلیوں میں میری نعش کو کھینچے
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا شعلہ جوالہ ہر اک حلقہ گرداب تھا واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام گریے سے یاں پنبہ بالش کف سیلاب تھا واں خود
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینہ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا رنگ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا تو اور سوئے غیر
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا حبابِ موجہ رفتار ہے نقشِ قدم میرا محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بیدماغی ہے کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا آتشِ خاموش کے مانند گویا جل گیا دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں آگ اِس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا؟ کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا کا کاوِ سخت جانیہائے تنہائی، نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئیشِیر کا جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا واے دیوانگی شوق کہ ہر دم
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں تھیں بنات النعش گردون دن کو پردے میں نہاں شب کو ان کے جی میں کیا
شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یا رب تیر بھی سینہ بسمل سے پر افشاں نکلا بوئے گل، نالہ
نکتہ چین ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے کیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبہ دل اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا کاد کادِ سخت جانیہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا جذبہ بے اختیار شوق دیکھا
منظور ہے گزارشِ احوال واقعی اپنا بیانِ حسن طبیعت نہیں مجھے سو پشت سے ہے پیشہ آبا سپہ گری کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے آزاد رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل ہر گز
مدت ہوئی یار کو مہماں کیے ہوئے جوش قدح سے بزمِ چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوت مثرگاں کیے ہوئے پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں خیاباں خیابان ارم دیکھتے ہیں دل آشفتگاں خال کنج دہن کے سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں ترے سرو قامت سے اک قد آدم قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تم ہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے نہ شعلے میں کرشمہ، نہ برق میں یہ ادا کوئی بتائو کہ وہ شوخ تندخو کیا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے وعدے پر جئے ہم، تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا تری
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر وہ خوں، جو چشم تر سے عمر
غنچہ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یوں بو سے کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا، کہ یوں پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے اس کے ہر اک اشارے سے
دوست خمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم،
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr