کھلاڑیوں کے خودنوشت کے واسطے کتابچے لئے ہوئے کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں مہیب پھاٹکوں کے دولتیکواڑچیخ اُٹھے اُبل پڑے اُلجھتے بازوئوں چٹختی پسلیوں کے پُر ہر اس قافلے
کھلاڑیوں کے خودنوشت کے واسطے کتابچے لئے ہوئے کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں مہیب پھاٹکوں کے دولتیکواڑچیخ اُٹھے اُبل پڑے اُلجھتے بازوئوں چٹختی پسلیوں کے پُر ہر اس قافلے
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہے کانٹوں سے اُلجھ کر جینا ہے پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے شاید وہ زمانہ لوٹ آئے، شاید وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیں ان
روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھول حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گُلاب کے پھول اُفق اُفق پہ زمانوں کی دُھند سے اُبھرے طیّور، نغمے، ندی، گُلاب کے پھول کسی کا پھول سا چہرہ
بنے یہ زہر ہی وجہِ شفا، جو تو چاہے خرید لوں یہ نکلی دوا، جو تو چاہے تجھے تو ہے کیوں میں نے اس طرح چاہا جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا، جو تو
اب یہ مسافت کیسے طے ہو اے دل تو ہی بتا کٹتی عمر اور گھٹتے فاصلے پھر بھی وہی صحرا شیشے کی دیوار زمانہ، آمنے سامنے ہم نظروں سے نظروں کا بندھن، جسم سے جسم جُدا
دل سے ہر گزری بات گزری ہے کس قیامت کی رات گزری ہے چاندنی، نیم وا دریچہ، سکوت آنکھوں آنکھوں میں رات گزری ہے ہائے وہ لوگ خوبصورت لوگ جن کی دن میں حیات گزری ہے
کاش میں تیرے بن گوش کا بُندا ہوتا رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول میرے
تنگ پگڈنڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سرِ کُہسار بل کھاتی ہوئی نیچے، دونوں سمت، گہرے غار، منہ کھولے ہوئے آگے ، ڈھلوانوں کے پاراک موڑ اور اس جگہ اِک فرشتے کی طرح نورانی پر تولے ہوئی جھک پڑا ہے آ کے
جنونِ عشق کی رسمِ عجیب کیا کہنا میں اُن سے دور وہ میرے قریب کیا کہنا یہ تیرگیء مسلسل میں اک وقفہء نور یہ زندگی کا طلسمِ عجیب کیا کہنا جو تم ہو برقِ نشیمن تو
جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا انہی دنوں میں اس اِک دن کو کون دیکھے گا اس ایک دن کو جو سورج کی راکھ میں غلطاں انہی دنوں کی تہوں میں ہے،
ڈاکخانے کے ٹکٹ گھر پر خریداروں کی بھیڑ ایک چوبی طاقچے پر کچھ دواتیں، ایک قلم یہ قلم میں نے اُٹھایا اور خط لکھنے لگا: ”پیارے ماموں جی! دُعا کیجیے خُدا رکھ لے بھرم آج انٹرویو
میں نے اس کو دیکھا ہے اُجلی اُجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں پھیلتی پھیلتی بھیڑ کے اندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں جب وہ خالی بوتل پھینک کر کہتا ہے؛ ”دنیا! تیرا حُسن
گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا نہ مل کہ خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا فقیر ہیں، دو فقیرانہ ساز رکھتے ہیں؟؟ دو ساز یا پھر تو ساز ہمارا ہنسنا ہے کیا اور
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار گھنے، سہانے، چھائوں چھڑکتے، بُور لدے چھنتار بیس ہزار میں بِک گئے سارے ہرے بھرے اشجار جن
یہ دُنیا اک بے ربط سی ایک زنجیر یہ دُنیا یہ اک نامکمل تصویر یہ دُنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیر میں جب دیکھتا ہوں یہ بزمِ فانی غمِ جاودانی کی ہے اِک کہانی تو چیخ
جدید اردو نظم میں کے ایک اہم ترین شاعر۔ جنہوں نے اپنی شاعری سے اردو نظم کو نیا آہنگ بخشا 29 جون 1914 کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ 1930 میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے بی
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr