ہر قدم پر نت نئےسانچےمیںڈھل جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ کسلیے کیجیے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش جبکہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ کتنے سادہ دل
ہر قدم پر نت نئےسانچےمیںڈھل جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ کسلیے کیجیے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش جبکہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ کتنے سادہ دل
ازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوں کبھی خدا تو کبھی ناخدا کی زد میں ہوں خدا نہیں ہوں مگر زندہ ہوں خدا کی طرح میں اک اکائی کے مانند ہر عدد میں ہوں
جو آگ نہ تھی ازل کے بس میں وہ آگ ہے میری دسترس میں قدرت سے نبرد آزما ہوں ہر چند ہوں جسم کے قفس میں میں آج ہوں، کل نہیں ہوں لیکن صدیاں ہیں مرے
جب تک زمیں پہ رینگتے سائے رہیں گے ہم سورج کا بوجھ سر پر اٹھائے رہیں گے ہم کھل کر برس ہی جائیں کہ ٹھنڈی ہو دل کی آگ کب تک خلا میں پائوں جمائے رہیں
اپنا انداز جنوں سب سے جُدا رکھتا ہوں میں چاک دل، چاک گریباں سے سوا رکھتا ہوں میں غزنوی ہوں اور گرفتار خم زلف ایاز بت شکن ہوں اور دل میں بت کدہ رکھتا ہوں میں
آج کی شب بھی ہو ممکن جاگتے رہنا کوئی نہیں ہے جان کا ضامن جاگتے رہنا قزاقوں کے دشت میں جب تک قافلہ ٹھہرے قافلے والو، رات ہو یا دن، جاگتے رہنا تاریکی میں لپٹی ہوئی
کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے اک دن نکل نہ جائوں ذرا اپنے آپ سے جسکی مجھے تلاش تھی، وہ تو مجھ ہی میں تھا کیوں آج تک میں دور رہا اپنے آپ
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr