جو آگ نہ تھی ازل کے بس میں وہ آگ ہے میری دسترس میں قدرت سے نبرد آزما ہوں ہر چند ہوں جسم کے قفس میں میں آج ہوں، کل نہیں ہوں لیکن صدیاں ہیں مرے

آج کی شب بھی ہو ممکن جاگتے رہنا کوئی نہیں ہے جان کا ضامن جاگتے رہنا قزاقوں کے دشت میں جب تک قافلہ ٹھہرے قافلے والو، رات ہو یا دن، جاگتے رہنا تاریکی میں لپٹی ہوئی