وہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہے پانیوں کا پھول پانی میں رواں ہونے کو ہے ماہیء بے آب ہیں آنکھوں کی بے کل پتلیاں ان نگاہوں سے کوئی منظر نہاں ہونے کو ہے
وہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہے پانیوں کا پھول پانی میں رواں ہونے کو ہے ماہیء بے آب ہیں آنکھوں کی بے کل پتلیاں ان نگاہوں سے کوئی منظر نہاں ہونے کو ہے
وہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہے وہی دعا بھی، وہی حاصل دعا بھی ہے میں اس کی کھوج میں نکلا ہوں ساتھ لے کے اسے وہ حسن مجھ پر عیاں بھی ہے اور
کانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسی جیون بھول بھلیوں میں وہ رستوں جیسی اجلی اجلی مہکی مہکی روشن روشن میری سوچوں جیسی، میرے جذبوں جیسی جھلمل جھلمل کرتی اترے دل آنگن میں رات اندھیروں
بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے سروں سے کھینچ لیے کس نے سائبان پھر سے دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کا زمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے میں تیری
تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے یہ زندگی تو مجھ سے بسر ہونی چاہئے آئے ہیں لگ رات کی دہلیز پھاند کر ان کے لیے نوید سحر ہونی چاہئے اس درجہ پارسائی سے گھٹنے
منزلیں بھی، یہ شکستہ بال وپر بھی دیکھنا تم سفر بھی دیکھنا، رخت سفر بھی دیکھنا حالِ دل تو کُھل چکا اس شہر میں ہر شخص پر ہاں مگر اس شہر میں اک بے خبر بھی
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr