مجھے اچانک نظر وہ آئی! میں چُپ رہا پر کچھ اس طرح سے مرے پریشاں سوال اُبھرے تمام سوئے خیال اُبھرے تڑپتی جانوں کو جیسے لے کر کسی مچھیرے کا جال اُبھرے سمجھ نہ پایا کہ
مجھے اچانک نظر وہ آئی! میں چُپ رہا پر کچھ اس طرح سے مرے پریشاں سوال اُبھرے تمام سوئے خیال اُبھرے تڑپتی جانوں کو جیسے لے کر کسی مچھیرے کا جال اُبھرے سمجھ نہ پایا کہ
گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل صرف وہم و گماں سے کیا حاصل بے یقینی ہی بے یقینی ہے ! ایسے ارض و سماں سے کیا حاصل سوچ آگے بڑھے تو بات بنے صرف عمرِ
یہ زمینی بھی زمانی بھی فطرتِ عشق آسمانی بھی شرط ہے جاں سے جائے پہلے ہے عجب عمرِ جاودانی بھی تم نے جو داستان سنائی ہے ہے وہی تو مری کہانی بھی کتنے دلچسپ لگنے لگتے
تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے لب ہمارے لبِ فریاد نہیں ہونے کے کوئی اچھی بھی خبر کان میں آئے یا ربّ ایسی خبروں سے تو دل شاد نہیں ہونے کے تو رہے
اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے ” ختم ہوں جھگڑے یہ صبح و شام کے ” یہ ملوکیت، یہ سب دہشت گردی اور سب تلے اسلام کے بے اثر ہیں اُن پہ سب اسم
ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں ”چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں” کرو نہ گلشن ہستی اس کے لیے نہ ہاتھ آئے گی یارو، صبا کسی کی نہیں زمانہ گزرا کہ
بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت تو نہیں تھا آج تو تیرا خیال آیا بہت دیکھتے ہی دیکھتے شاہوں کی شاہی چھن گئی باکمالوں پر زمانے میں زوال آیا بہت جہل کے سائے
نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو یہ خاک خاکِ شفا ہے ذرا سنبھل کے چلو ہر ایک ذہن میں اندیشہ ہائے دور دراز ہر ایک لب پہ صدا ہے، ذرا سنبھل کے چلو
ہم آفتاب سے، ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں خود اپنی آگ میں جلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں جو سنگ ٹوٹ نہ پائے جہاں کی کوشش سے ہمارے غم سے پگھلتے ہیں کچھ خبر ہے
نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ لفظ رک جاتے ہیں آکر مری گفتار کے بیچ دل کی باتوں میں نہ آ یار کہ اس بستی میں روز دل والے چنے جاتے ہیں دیوار
میں اس سے قیمتی شے کوئی کھو نہیں سکتا عدیل ماں کی جگہ کوئی ہو نہیں سکتا مرے خدا یہاں درکار ہے مسیحائی! لہو کو آدمی اشکوں سے دھو نہیں سکتا یہ اور بات ہے ہو
Copyright © 2005 Geo Urdu, All rights reserved. Powered by nasir.fr