ایک دن چاند سے بچھڑنا ہے آنکھ، تقدیر، اور تعلق جو جانے کس دوسرے کے بس میں ہیں سانپ بن بن کے ڈستے رہتے ہیں اپنی سانسوں میں ڈوبتے دل کو چاند جس طرز کا مسافر

اپنی خاطر ہی بنے ہیں تالے عمر بھر ساتھ چلے ہیں تالے ہم عجب قیدی ہیں فرحت جن کے آنسوئوں پر بھی لگے ہیں تالے تم ہمیں کہتے ہو دروازوں کا ہم نے زخموں کو دیے

ابھی کچھ پل ہمارے ہاتھ میں ہیں کون جانے کونسا لمحہ ہمارے ہاتھ سے پھسلے، گرے اور پائوں کی زنجیر ہو جائے ابھی یہ دن جو لگتا ہے کہ ہم اک دوسرے کیساتھ رہ سکتے ہیں

اب یہی آخری سہارا ہے میں ترا، تو میرا کنارا ہے لوٹنا اب نہیں رہا ممکن تو نے کس موڑ پر پکارا ہے کیا تمہیں اب بھی یاد آتا ہے چاند کے پاس جو ستارا ہے

برطانوی سائنسدان۔ 2003 کا طب کا نوبل انعام ان کو دیا گیا۔سر مینسفیلڈ9 اکتوبر 1933ء کو پیدا ہوئے۔ سر مینسفیلڈ نے سن ستر کی دہائی میں ایکس۔رے کے بغیر اعضائے جسمانی کی اندرونی تصویر کشی کا