
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی
تو کیا خود کو بھی آدھا کر لیا کیا
ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ
مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا
یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں
سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا
اٹھایا اک قدم تو نے نہ اب تک
بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا
تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں؟
بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا
بہت نزدیک آئی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
جون ایلیا